Log masuk
Bulan Al-Quran lah.Bantu kami menyebarkan cahayanya.Bulan Al-Quran lah. Bantu kami menyebarkan cahayanya.
Derma
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
26:21
ففررت منكم لما خفتكم فوهب لي ربي حكما وجعلني من المرسلين ٢١
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْمًۭا وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ٢١
فَفَرَرۡتُ
مِنكُمۡ
لَمَّا
خِفۡتُكُمۡ
فَوَهَبَ
لِي
رَبِّي
حُكۡمٗا
وَجَعَلَنِي
مِنَ
ٱلۡمُرۡسَلِينَ
٢١
"Lalu aku melarikan diri dari kamu, ketika aku merasa takut kepada kamu; kemudian Tuhanku mengurniakan daku ilmu pengetahuan ugama, dan menjadikan daku seorang RasulNya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 26:18 hingga 26:22

قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22)

فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔

ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک غائب رہے اور اب آئے تو اس عظیم اور ناقابل تصور مطالبے کے ساتھ یہی وجہ ہے کہ فرعون بات کا آغاز نہایت تعجب ، حقارت اور مزاحیہ انداز سے کرتا ہے کہ تم وہی تو ہو جس نے یہ یہ کام کئے اور اب :

قال الم …الکفرین (26 : 19) ” فرعون نے کہا ” کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا ؟ تو نے اپنی عمر کے کء سال مہارے ہاں گزارے اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کر گیا تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔ “ کیا اس پرورش اور عزت کا یہ صلہ ہے جو تو ہمیں دے رہا ہے ؟ اب تو آیا ہے اور ہم جس نظام زندگی کے مطابق اپنا نظام چلا رہے ہیں تو اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاکہ تو اس بادشاہ کے خلاف بغاوت کر دے جس کے گھر میں پلا ہے اور میرے سوا تو کسی اور الہ اور رب اور حاکم کی بات کرتا ہے۔ تو ایک عرصہ تک ہمارے اندر رہ چکا ہے ، اس وقت تو تو نے کبھی ایسا کوئی پروگرام نہیں بنایا۔ نہ ایسے دعوے کئے جو اب کر رہا ہے۔ اس عظیم پروگرام سے تو ، تو نے ہمیں خبردار نہیں کیا۔

اور فرعون قبطی کے قتل کے واقعہ کو نہایت مبالغے کے ساتھ پیش کرتا ہے اور دھمکی آمیز انداز میں یاد دلاتا ہے۔

وفعلت فعلتک التی فعلت (62 : 19) ” اور تو نے وہ اپنا کام کیا جو تو نے کیا۔ “ یعنی بہت ہی برا کام ، اس قدر برا کہ اس کو صراحت کے ساتھ منہ پر لانا ہی اچھا نہیں ہے۔ تو نے اس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کیا۔

وانت من الکفرین (26 : 19) ” اس طرح تو رب العالمین کا منکر بن گیا۔ “ اور اب تو اسی رب العالمین کی باتیں کرتا ہے۔ اس وقت تو تو رب العالمین کی بات نہ کرتا تھا۔

یوں فرعون نے حضرت موسیٰ کی تردید میں تمام مسکت دلائل گنوا دیئے اور اس نے یہ خیال کیا کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) ان دلائل کے بعد لاجواب ہوجائیں گے۔ کوئی مقابلہ نہ کرسکیں گے ، خصوصاً اس نے ایک سابق مقدمہ قتل کی

طرف بھی اشارہ کردیا اور بالواسطہ دھمکی دے دی ہے کہ تمہارے خلاف اس مقدمہ کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور سزائے قصاص تم پر نافذ ہو سکتی ہے۔

لیکن حضرت موسیٰ کی تو دعا قبول ہوچکی تھی۔ اب ان کی زبان میں کوئی گرہ نہ تھی۔ وہ بڑی روانی سے کہہ رہے تھے۔

قال فعلتھا ……المرسلین (26 : 21) وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ” اس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کردیا تھا۔ پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان ، جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔ “ میں نے جو مستحق کا ارتکاب کیا تو اس وقت میں نادان تھا۔ اس وقت میں نے اپنی مظلوم قوم کی حمایت کی بنا پر یہ فعل کیا تھا۔ یہ کام میں اپنے اس نظریہ حیات کی حمایت میں نہ کیا تھا جو اللہ نے اب مجھے بطور حکمت عطا کیا ہے۔

فقرت منکم لما خفتکم (26 : 21) ” پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا “۔ کیونکہ مجھے جان کا ڈر تھا۔ اللہ کو میری خیریت مطلوب تھی۔ اس نے مجھے یہ حکمت عطا کرنی تھی۔

وجعلنی من المرسلین (26 : 21) ” اور مجھے رسولوں میں شامل کرلیا۔ “ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں۔ میں جماعت رسل میں سے ایک ہوں۔

اب حضرت موسیٰ اس شخص کی طنز کا جواب طنزیہ انداز میں دیتے ہیں۔

وتلک نعمۃ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل (26 : 22) ” یہ احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل غلام بنا لیا تھا۔ “ میں تمہارے گھر میں باہر مجبوری پلا ، کیونکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا۔ تو ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اس وجہ سے میری ماں مجبور ہوئی کہ مجھے صندوق میں بند کر کے موجوں کے حوالے کر دے ۔ اس طرح تم لوگوں نے صندوق کو پکڑ لیا اور اس طرح میں تمہارے گھر میں پلا اور والدین کے گھر میں پلنے سے محروم رہا تو کیا یہ ہے وہ احسان جو تم جتلاتے ہو اور کیا یہ تمہاری مہربانیاں ہیں ؟

اب فرعون اپنی بات بدل دیتا ہے۔ اس موضوع کو چھوڑ کر اب وہ اصل بات پر آجاتا ہے لیکن یہاں بھی وہ مستکبرین کی طرح تجاہل عارفانہ کے انداز میں بات کرتا ہے۔ مزاحیہ اور گستاخانہ انداز اور گستاخی بھی رب العالمین کے نجاب میں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara