وارد شوید
ماه قرآن است.به ما در گسترش نور آن کمک کنید.ماه قرآن است. به ما در گسترش نور آن کمک کنید.
اهدا کنید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۲۱:۱۰
واذا اذقنا الناس رحمة من بعد ضراء مستهم اذا لهم مكر في اياتنا قل الله اسرع مكرا ان رسلنا يكتبون ما تمكرون ٢١
وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌۭ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ ٢١
وَإِذَآ
أَذَقۡنَا
ٱلنَّاسَ
رَحۡمَةٗ
مِّنۢ
بَعۡدِ
ضَرَّآءَ
مَسَّتۡهُمۡ
إِذَا
لَهُم
مَّكۡرٞ
فِيٓ
ءَايَاتِنَاۚ
قُلِ
ٱللَّهُ
أَسۡرَعُ
مَكۡرًاۚ
إِنَّ
رُسُلَنَا
يَكۡتُبُونَ
مَا
تَمۡكُرُونَ
٢١
و هنگامی‌که به مردم، پس از رنج (و زیانی) که به آن‌ها رسیده است رحمتی بچشانیم، آنگاه آن‌ها در آیات ما نیرنگ می‌کنند، بگو: الله در نیرنگ زدن سریع‌تر است، بی‌تردید رسولان (= فرشتگان) ما آنچه نیرنگ می‌کنید، می‌نویسند».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم جب لوگوں کو کوئی دکھ پہنچتا ہے اور پھر ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں۔ رحمت سے مراد ہے سرسبزی ‘ ارزانی ‘ فراخ دستی ‘ صحت۔ اور ضَّراء سے مراد ہے خشک سالی ‘ بدحالی ‘ افلاس اور بیماری۔

اذا لھم مکر فی ایٰتنا تو فوراً ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : مکر سے مراد ہے تکذیب و استہزاء۔ میں کہا ہوں : مکر کا معنی ہے پوشیدہ طور پر کسی کو برائی پہنچانے کا ارادہ کرنا۔ آیات کی تکذیب بظاہر رسول اللہ (ﷺ) کی تکذیب اور آپ کو برائی پہنچانے کے ارادہ کا مظاہرہ تھا ‘ اللہ کی تکذیب نہ تھی لیکن آیات اللہ حقیقت میں اللہ کا کلام تھا ‘ اسلئے درپردہ تکذیب اور ارادۂ شر کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہوتا ہے ‘ اور یہی مکر کی حقیقت ہے۔

مقاتل بن حبان نے کہا : (ا اللہ ان کو رزق دیتا تھا ‘ بارش برساتا تھا اور) وہ اللہ کے رازق ہونے کے قائل نہ تھے بلکہ کہتے تھے : نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔ تکذیب آیات کی ان کی طرف سے یہ حیلہ سازی تھی ‘ اسی کو مکر کہا گیا ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ ایک بار اہل مکہ قحط میں مبتلا ہوئے ‘ پھر اللہ نے ان پر رحم کیا اور قحط کو دور کردیا۔ قحط دور ہوتے ہی وہ ناشکری اور استہزاء بآیات اللہ کرنے لگے۔ اللہ کی نعمت کے شکرگذار نہ ہوئے۔ بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ کافروں کی بےرخی اور روگردانی دیکھ کر رسول اللہ (ﷺ) نے بددعا کی اور فرمایا : اے اللہ ! یوسف (علیہ السلام) کے سات سالوں کی طرح ان کو ہفت سالہ قحط میں مبتلا کر کے میری مدد فرما۔ بددعا کے نتیجہ میں اہل مکہ پر قحط مسلط ہوگیا کہ ہر چیز (یعنی کھیتی ‘ سبزی ‘ پھل وغیرہ) تباہ ہوگئی ‘ کھالیں اور مردار جانور تک کھانے کی نوبت آگئی۔ ابو سفیان نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : محمد (ﷺ) تمہاری قوم والے ہلاک ہوگئے۔ تم اللہ کی اطاعت اور صلۃ الرحم (قرابتداروں سے حسن سلوک) کا ہم کو حکم دیتے ہو۔ اللہ سے ان کیلئے دعا کر دو کہ اللہ ان کی مصیبت کو دور کر دے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے دعا فرما دی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ قحط میں مبتلا ہونے کے بعد مشرکوں نے کہا تھا : اے ہمارے رب ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے ‘ ہم ایمان لے آئیں گے۔ رسول اللہ (ﷺ) کو (ا اللہ کی طرف سے) اطلاع دی گئی کہ اگر یہ مصیبت دور کردی گئی تو یہ لوگ پھر اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ جائیں گے (کفر کرنے لگیں گے) ۔

غرض رسول اللہ (ﷺ) نے دعا کردی اور اللہ نے مصیبت دور کردی ‘ مگر وہ پھر (شرک و تکذیب کی طرف) لوٹ گئے۔ اس کی سزا اللہ نے ان کو بدر کے دن دی (کہ سرداران شرک کو تباہ کردیا) ۔

قل اللہ اسرع مکرًا آپ کہہ دیجئے کہ خفیہ تدبیر کرنے میں اللہ تم سے تیز ہے۔ اس کی خفییہ تدبیر یا تو ڈھیل ہے۔

حضرت علی کا ارشاد ہے : اللہ جس کی دنیا فراخ کر دے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل ہے تو اس کی عقل فریب خوردہ ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت کی مراد یہ ہے کہ وسعت دنیا حاصل ہونے کے بعد جو شخص (ا اللہ کی ڈھیل کو نہ سمجھے اور) شکر ادا نہ کرے وہ فریب خوردہ ہے۔

یا مکر سے مراد ہے مگر کی سزا ___ یعنی لوگ تو خفیہ تدبیریں بعد کو کرتے ہیں ‘ اللہ ان کی سازشوں سے پہلے ہی ان کی سزا کی خفیہ تدبیر یا (خفیہ) ڈھیل دینے کو تجویز کرچکا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے سرعت مکر کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ حق کو دفع کرنے کی جو تدبیریں کافر کرتے ہیں ‘ ان سے زیادہ سرعت کے ساتھ اللہ ان کو ہلاک کردینے کی تدبیر کردیتا ہے۔ اللہ کا عذاب ان پر بہت جلد آجاتا ہے۔ اللہ چونکہ قدرت رکھتا ہے ‘ اسلئے وہ جو کچھ چاہتا ہے وہ ضرور آ کر رہتا ہے اور کافر دفع حق کی قدرت نہیں رکھتے۔

ان رسلنا یکتبون ما تمکرون۔ جو مکاریاں تم کرتے ہو ہمارے پیامبر (یعنی اعمال کی نگرانی رکھنے والے فرشتے) اس کو لکھ لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ تمہاری خفیہ تدبیریں نگرانی رکھنے والے ملائکہ سے بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتیں ہیں ‘ اللہ سے کس طرح چھپی رہ سکتی ہیں جو سارے جہان کا خالق ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است